منگل 3 فروری 2026 - 01:15
سید عبد الکریم نصراللّٰه نے تمام کمزوروں اور مظلوموں کو ایک مخلص حامی اور رہبر عطا کیا: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ/مولانا سید علی ہاشم عابدی نے کہا کہ عبد مؤمن و صالح جناب سید عبد الکریم نصراللّٰه رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت صرف ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ اس مثالی والد کی وفات ہے جو اس عصر غیبت میں دنیا کے تمام والدین خصوصاً والد کے لیے نمونۂ عمل ہے کہ اپنی اولاد کی کیسی تربیت کی جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید علی ہاشم عابدی نے شہید سید حسن نصراللّٰه رحمۃ الله علیہ کے والد محترم سید عبد الکریم نصراللّٰه کی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبد مؤمن و صالح جناب سید عبد الکریم نصراللّٰه رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت صرف ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ اس مثالی والد کی وفات ہے جو اس عصر غیبت میں دنیا کے تمام والدین خصوصاً والد کے لیے نمونۂ عمل ہے کہ اپنی اولاد کی کیسی تربیت کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سید عبد الکریم نصراللّٰه کی ذات ایک خاموش انقلاب تھی، جو برسوں ایک سادہ دکان، ایک چھوٹے سے مکان میں رہی، لیکن دنیا کے تمام کمزوروں اور مظلوموں کو ایک مخلص حامی اور رہبر عطا کیا۔

انہوں نے کہا کہ سید عبد الکریم نصراللّٰه اُن لوگوں میں سے تھے جو تاریخ کے صفحوں پر کم لکھے جاتے ہیں، مگر تاریخ کے رُخ کو بدل دیتے ہیں۔ نہ ان کے ہاتھ میں اقتدار تھا، نہ زبان پر خطابت کے جوہر، مگر ان کے پاس کردار تھا اور کردار جب ایمان سے جڑ جائے تو وہ نسلوں کو بیدار کر دیتا ہے۔

مولانا سید علی ہاشم نے کہا کہ جناب سید عبد الکریم نصراللّٰه رحمۃ الله علیہ نے اپنے بیٹے کو یہ نہیں سکھایا کہ طاقت کیا ہوتی ہے، بلکہ انہوں نے سکھایا کہ طاقت کا مصرف کیا ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ سبق نہیں دیا کہ دشمن کون ہے، بلکہ یہ سمجھایا کہ ظلم جہاں بھی ہو، وہی دشمن ہے اور مظلوم چاہے کسی بھی مذہب، قوم یا زبان کا ہو، اس کی حمایت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مزاحمت کسی قوم کی جاگیر نہیں، بلکہ ایک عالمی اخلاقی مؤقف بن چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سید عبد الکریم نصراللّٰه نہ کوئی معروف عالم دین تھے، نہ پروفیسر و انجینیئر تھے، نہ کوئی سیاسی شخصیت تھے، بلکہ ایک سبزی فروش تھے اور یہ لفظ ان کے قد کو چھوٹا نہیں کرتا، بلکہ اسے بلند کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے ثابت کیا کہ رزقِ حلال کی خوشبو بارود کی بو سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور جو ہاتھ حلال کمائی سے اٹھتا ہے اس کی دعا سرحدوں کو چیر دیتی ہے۔

مولانا نے کہا کہ آج اگر شہید علامہ سید حسن نصراللّٰه رضوان الله تعالیٰ علیہ استکبارِ عالم کے سامنے بغیر لرزے، بغیر جھکے، بغیر سودا کیے کھڑے رہے، اگر انہوں نے سیاست کو ایمان کے تابع رکھا اور مزاحمت کو اخلاق سے جوڑا تو اس کے پس منظر میں ایک ایسا باپ تھا جس نے بیٹے کو سکھایا کہ فتح کا معیار جغرافیہ نہیں، ضمیر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا جناب سید عبد الکریم نصراللّٰه رحمۃ الله علیہ ان ساداتِ حسینی میں سے تھے جو کربلا کو صرف تاریخ نہیں، بلکہ مسلسل ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک عاشوراء ماتم کا دن ضرور تھا مگر خاموشی کا نہیں؛ صبر کا دن تھا مگر غلامی کا نہیں۔ آج جب دنیا طاقت کے توازن کو حق کا معیار بنانے پر تلی ہوئی ہے، جب میڈیا، معیشت اور اسلحہ سچ کو کچلنے کے لیے یکجا ہیں، ایسے وقت میں سید عبد الکریم نصراللّٰه رحمۃ الله علیہ جیسے لوگ یہ یاد دہانی کرواتے ہیں کہ تاریخ میں ہمیشہ حق کمزور نظر آیا مگر ہارا کبھی نہیں۔

مولانا سید علی ہاشم عابدی نے کہا کہ ہم آج جس ذات کی رحلت پر سوگوار ہیں وہ ایک انسان نہیں، ایک مدرسہ تھا؛ ایک ایسا مدرسہ، جس کے نصاب میں تقویٰ، غیرت، صبر، حلال اور ظلم سے نفرت شامل تھی؛؛یہی وہ مدرسہ تھا جس نے ایک بیٹے کو قوموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولنے کا حوصلہ دیا اور یہی وہ مدرسہ ہے جو آج بھی ہر اُس گھر میں زندہ ہے جہاں ماں باپ اولاد کو صرف کامیاب نہیں، بلکہ حق پر قائم دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ہم بارگاہِ خداوندِ متعال میں دلِ شکستہ مگر فکرِ بیدار کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ خدایا! جناب سید عبد الکریم نصراللّٰه کو امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا علیہم السلام کے ساتھ محشور فرما۔ ان کی قبر کو پُر نور بنا دے، ان کے تربیتی نقوش کو امت کا رہنما بنا دے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی ایسی زندگیاں گزاریں جن کی وفات قوموں کو کمزور نہیں، بلکہ مزید بیدار کر دے۔

رحمه الله رحمةَ الأبرار، وتقبّله في صفوف المجاهدين، وحشره مع الشهداء والصالحين.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha